ابنا: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 128ویں لانگ کورس کی پاسنگ آوٴٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو قومیں چیلنجز کو قبول کرتی ہیں، وہی ابھر کر سامنے آتی ہیں،جوقومیں خود پر مایوسی طاری کرلیتی ہیں، تباہی ان کا مقدر ہوجاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ غلطیاں ضرور کیں، لیکن کچھ نہ کچھ اچھا بھی ضرور کیا،کمیشن حاصل کرنے والے ملکی اور غیر ملکی کیڈٹس کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں،یقین ہے کمیشن لینے والے کیڈٹس آنے والے دنوں میں ملک کے لیے بہترین اثاثہ ثابت ہوں گے اور ملک کے بھرپور مستقبل کے ضامن بنیں گے۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ میں نے اکتوبر 1979ء میں یہیں سے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔ کچھ بھی اپنے 44 سال کے کیریئر میں حاصل کیا، وہ پاکستان اور اللہ کے کرم کا مرہونِ منت ہے۔قومی قیادت نے دہشتگردی سے نمٹنے کیلیے مذاکرات کا فیصلہ کیا،اگرمذاکرات سے دہشتگردی کا حل نکلتا ہے تو پاک فوج کو خوشی ہوگی ۔طاقت کا استعمال آخری آپشن ہوگا،آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے مزید کہا کہ دہشت گردی ہمارے لیے بڑا چیلنج ہے ۔ دہشت گردی اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔قومی قیادت نے دہشت گردی سے نمٹنے کیلیے مذاکرات کا فیصلہ کیا۔آج سوات میں مکمل امن ہے، جس کے گواہ سوات کے لوگ ہیں۔یہ غلط ہے کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ناکامی کے بعدمذاکرات ہورہے ہیں ۔دفاعی اخراجات بجٹ کا 18 فی صد ہیں۔پاک فوج مذاکرات کے عمل کی حمایت کرتی ہے۔پاک فوج نے مشکل حالات میں دہشت گردی کا مقابلہ کیا ۔پاک فوج ملکی سلامتی اور استحکام کی علامت ہے ۔پاکستان ہم سب کا نصیب ہے،اسے بہترسے بہترین بنائیں گے۔دعا ہے پاک افواج آیندہ سالوں میں مضبوط سے مضبوط ترہو۔
.......
/169